دنیا کا وسیع ترین "وائی میکس" نیٹورک پاکستان میں!۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی اور موبائل کمیونیکیشن کے شعبوں میں پاکستان تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ۔ اسی حولے سے کچھ اپ ڈیٹس حاضر خرمت ہیں۔ مزید تفصیلات کے لیے برائے مہربانی زیل کے ربط پہ جائیں۔

http://techlahore.wordpress.com/2008/12/14/pakistan-has-worlds-largest-wimax-network-will-america-catch-up-wonders-tmcnet/

یا موضوع پہ کلک کریں۔

Posted byعین لام میم at 5/04/2009 12:13:00 AM 0 comments Links to this post  

الیکٹراانک میڈیا نو جوانوں میں ڈپریشن کا باعث، نئی تحقیق

ایک نئے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ تیرہ سے انیس سال تک کی عمر کے جو نوجوان جتنا زیادہ دیر تک ٹیلی ویژن اور دوسرے الیکٹرانک میڈیا کے سامنے اپنا وقت گزارتے ہیں ان میں ڈپریشن کے مرض میں مبتلا ہونے کا امکان اتنا ہی زیادہ بڑھ جاتا ہے۔اس جائز ے کے نتائج آرکائیوز آف جنرل سائیکیٹری میں شائع ہوئے۔

اس ریسرچ کے محقیقین نے وضاحت کی کہ ڈپریشن دنیا بھر اس معذوری کی ایک بڑی وجہ بن گئی ہے جو جان لیوا نہیں ہوتی ۔ریسرچ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانی میں ڈپریشن کے پیدا ہونے کی وجہ وہ یعنی وہ جسمانی ، نفسیاتی ،سماجی اور وہ ہمہ جہت عمل ہو سکتا ہے جس پر انسان کے مزاج ، جینیاتی ورثے ، والدین کی پرورش کا انداز ، فکری کمزوریاں ، پریشان کن واقعات مثلاً سانحے یا غربت اور باہمی تعلقات کا اثر ہو تا ہے ۔ محقیقین کاکہنا ہے کہ اس حقیقت کے پیش نظر کہ نوجوانوں کے روزانہ اوسطاً 8 اعشاریہ 5 گھنٹے الیکٹرانک میڈیا کے سامنے گزرتے ہیں تومیڈیا بھی ان میں ڈپریشن کی ایک وجہ ہو سکتا ہے ۔

یونیورسٹی آف پٹس برگ کے اسکول آف میڈیسن کے ڈاکٹر برائن اے پریمیک اور ٹیم نے اس بات کا جائزہ لینے کے لیے کہ الیکٹرانک میڈیا نوجوانوں میں کس حد تک ڈپریشن پیدا کرسکتا ہے، نیشنل لانگی چیوڈنل سروے آف ایڈولسنٹ ہیلتھ کی جانب سے اکٹھے کیے گئے مواد کا جائزہ لیا۔ اس جائزے میں شامل 4142 نوجوانوں کے بارے میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ کتنا وقت الیکٹرانک میڈیا کے سامنے گذارتے ہیں۔

محققین کو معلوم ہوا کہ 1995 میں جب یہ مطالعاتی جائزہ شروع کیا گیا تو ان میں سے کوئی بھی نوجوان ڈیپریشن کا شکار نہیں تھا۔ابتدائی سروے میں نوجوانوں سے پوچھا گیا تھا کہ وہ کتناوقت ٹیلی وژن ، ویڈیو ز، کمپیوٹر پر گیمز کھیلنے یا ریڈیو سننے پر صرف کرتے ہیں۔ یہ سروے اس وقت کیا گیا تھا جب ڈی وی ڈیز اور انٹرنیٹ کا استعمال عام نہیں ہواتھا۔اس جائزے سے پتہ چلا تھا کہ وہ نوجوان روزانہ اوسطاً 5.68 گھنٹےالیکٹرانک میڈیا کے سامنے گذارتے تھے۔ جن میں سے وہ 2.3 گھنٹے ٹیلی وژن، 0.62 گھنٹے ویڈیو کیسٹ، 0.41 گھنٹے کمپیوٹر گیمز اور 2.34 گھنٹے ریڈیو سننے پر صرف کرتے تھے۔
جائزے میں شامل ان افراد پر سات سال کے بعد دوبارہ سروے کیا گیا جب ان کی اوسط عمر 21.8 سال ہوچکی تھی۔ ان میں سے 308 نوجوانوں یعنی 7.4 فی صد میں ایسی علامات پیدا ہوچکی تھیں جو ڈپیریشن کے مرض جیسی ہوتی ہیں۔

جائزے کے مصنفین کا کہنا ہے کہ ٹیلی وژن کے سامنے ہر روز گذارے گئے ہر اضافی گھنٹے کے نتیجے میں نوجوانوں میں ڈپپریشن کی علامات کے تناسب میں اضافہ ہوتا گیا۔جائزے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نوجوان لڑکیوں کی نسبت جنہوں نے اتنا ہی وقت الیکٹرانک میڈیا کے سامنے گذارا تھا، نوجوان لڑکوں کی ڈپیریشن پیدا ہونے کے امکانات زیادہ پائے گئے۔
مصنفین کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں ڈیپریشن پیدا ہونے کے اور بھی اسباب ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نوجوان الیکٹرانک میڈیا پر صرف کیے جانے والے وقت کو دوسری سماجی ، تخلیقی یا کھیلوں کی سرگرمیوں پر صرف کریں تو ان میں ڈیپریشن پیدا ہونے کے امکانات میں کمی ہوسکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رات کے وقت میڈیا کے سامنے وقت گذارنے سے نیند میں خلل پڑ سکتا ہے جو معمول کی فکری اور جذباتی نشوونما کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ میڈیا کے ذریعے منتقل ہونے والے پیغامات جارحیت یا دوسرے پر خطر طرز عمل پر ابھاریں جس سے ان کی انفرادی شخصت کی نشو و نما متاثر ہوسکتی ہے یا ان میں خوف اور بے چینی پیدا ہوسکتی ہے۔

جائزے کے مصنفین کا کہناہے کہ نوجوانوں کا علاج کرنے والے ماہرین نفسیات ، ڈاکٹروں اور صحت کی دیکھ بھال کے اداروں کے لیے یہ چیز فائدہ مند ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے نوجوان مریضوں سے یہ دریافت کریں کہ وہ اپنا کتنا وقت ٹیلی وژن اور دوسرے الیکٹرانک میڈیا کے سامنے گذارتے ہیں۔ اگر انہیں یہ پتہ چلے کہ ان کا مریض کے وقت کا ایک بڑا حصہ الیکٹرانک میڈیا کے سامنے گذرتا ہے تو ان کی نفسیاتی اور سماجی زنذگی کا تفصیلی جائزہ لیا جانا چاہیے۔اور اس کےسا تھ ساتھ انہیں یہ مشورہ بھی دیا جانا چاہیئے کہ وہ دوسری سماجی اور تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لیں تاکہ ان میں ڈیپریشن پیدا ہونے کے امکانات گھٹ جائیں۔

Posted byعین لام میم at 2/03/2009 09:56:00 PM 2 comments Links to this post  

Urdu Technology News اردو ٹیکنالوجی اخبار: مختصرترین سپر کمپیوٹر جسے آپ اپنی جیب میں رکھ سکتے ہیں

اردو ٹیکنالوجی اخبار: مختصرترین سپر کمپیوٹر جسے آپ اپنی جیب میں رکھ سکتے ہیں

Posted byعین لام میم at 1/12/2009 02:44:00 AM 0 comments Links to this post  

مختصرترین سپر کمپیوٹر جسے آپ اپنی جیب میں رکھ سکتے ہیں

کیا آپ کسی ایسے کمپیوٹر کا تصور کرسکتے ہیں کہ جو اتنا چھوٹا ہوکہ وہ آپ کی قمیص کی جیب میں آجائے اس کی طاقت آج کل کے سپر کمپیوٹر سے زیادہ ہو؟ ممکن ہے کہ آپ یہ بات سن کر ہنس دیں یا انکار میں سر ہلا دیں لیکن سائنس دانوں کا کہناہے کہ اس صدی کے نصف تک ایسے ہی مختصر ترین کمپیوٹر زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کرنے لگیں گے۔

کمپیوٹر کی عمر پچاس سال سے زیادہ نہیں ہے۔ابتدائی دور کے کمپیوٹر اتنے بڑے تھے کہ انہیں نصب کرنے کے لیے کئی بڑے کمرے درکار ہوتے تھے۔اور ان کی طاقت آج کل کے انتہائی معمولی کمپیوٹر کا عشر عشیر بھی نہیں تھی۔پھر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر کا سائز چھوٹا اور اس کی کمپیوٹنگ کی طاقت بڑھتی گئی۔

کمپیوٹر کی قوت کا مرکز یا اس کا دماغ مائیکروپروسیسر کہلاتا ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے ٹرانزسٹروں سے مل کر بنتا ہے۔ ٹرانزسٹر کی دریافت صرف 60 سال پہلے ہوئی تھی۔ان دنوں کمپیوٹر میں جو مائیکرو پروسیسر استعمال کیے جارہے ہیں ان میں ٹرانزسٹروں کے لاکھوں سرکٹ موجود ہوتے ہیں۔

اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ مائیکرو پروسیسر بنانے والی کمپنی انٹل کے شریک بانی گورڈن براؤن نے 1965ء میں یہ پیش گوئی کی تھی کہ تقریباً ہردو سال بعد کمپیوٹر کے پروسیسر کی قوت دگنی اور حجم نصف ہوتا جائے گا۔کئی عشروں سے ان کی یہ پیش گوئی پوری ہورہی ہے مگر سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اب مائیکروپروسیسر کا حجم اتنا چھوٹا ہوچکاہے کہ روایتی طریقوں سے اس کی قوت میں اضافہ اور جحم میں کمی کرنا مشکل ہے اور اب اس کے لیے متبادل طریقے ڈھونڈنے پڑیں گے۔ سائنس دان اس متبادل طریقے کو ایٹم پروسیسر کا نام دے رہے ہیں۔

فرانس کے نیشنل سائنٹفک ریسرچ سینٹر کے ایک سائنس دان کرسٹین جوکم کا کہنا ہے کہ 1947ءمیں ٹرانزسٹر ایجاد کرنے والے سائنس دانوں کو علم نہیں تھا کہ اس کی مدد سے طاقت ور کمپیوٹر بننے لگیں گے۔ ایٹم کمپیوٹر کے معاملے میں آج ہم بھی اسی مقام پر کھڑے ہیں۔جوکم یورپی سائنسی تحقیقی اداروں کے سائنس دانوں کی اس 15 رکنی ٹیم کے سربراہ ہیں جو مالیکولر ٹرانزسٹر بنانے پر کام کررہی ہے۔اس ٹیم نے اپنی تحقیق کا آغاز 1990ءمیں کیا تھا اور18 سال کے عرصے میں انہیں کئی نمایاں کامیابیاں حاصل ہوچکی ہیں۔

ایک روایتی کمپیوٹر کے مائیکرو پروسیسر میں ٹرانزسٹر برقی سرکٹ بنانے کا بنیادی کام سرانجام دیتے ہیں۔ ایک جدید ترین پروسیسر میں لاکھوں ٹرانزسٹر ہوتے ہیں جن میں ہر ایک کا حجم تقریباً 100 نینو میٹر کے مساوی ہوتاہے۔سائنس دانوں کا کہناہے کہ اب وہ اٹیم کی سطح پر کمپیوٹنگ کے لیے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔وہ اس کے لیے نینو اور پی کو ٹیکنالوجی استعمال کررہے ہیں۔ جب ایٹم کی سطح پر کمپیوٹنگ ہونے لگے گی تو اس سے نہ صرف پروسیسر کا حجم بہت ہی مختصر ہوجائے گا بلکہ اس کی قوت میں بھی بے پناہ اضافہ ہوجائے گا،کیونکہ پروسیسر میں موجود الیکٹرانک سرکٹ کی تعداد کروڑوں تک پہنچ جائے گی ۔ پھر گویا آپ اپنی جیب میں ایک سپرکمپیوٹر سے کہیں زیادہ طاقت ور کمپیوٹر رکھ سکیں گے۔

جوکم کی ٹیم کے ارکان ان دنوں ایک ایسے مالیکول کمپیوٹر پر کام کررہے ہیں جو موجودہ کمپیوٹر کی طرح پروسیسنگ کا کام کرسکے گا۔جوکم کا کہنا ہے کہ ہم اس حوالے سے کام کررہے ہیں کہ ایک کمپیوٹر کے لیے ہمیں کتنے ایٹموں کی ضرورت ہوگی۔ ابھی ہمارے پاس اس کا واضح جواب نہیں ہےلیکن ہمارے سامنے اس کی واضح تصویر موجود ہے۔

سائنس دانوں کی اس ٹیم نے 30 ایٹموں کی مدد سے کمپیوٹر کا ایک ایسا الیکٹرانک سرکٹ بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جو14 ٹرانزسٹروں کے مساوی کام کرنے کی اہلیت رکھتاہے۔اب وہ ایک مالیکیول کے اندر کمپیوٹر کا نظام قائم کرنے اوراسے دوسرے مالیکولوں کے ساتھ منسلک کرنے کے ڈیزائن اور ٹیکنالوجی پر کام کررہےہیں۔

جوکم ٹیم کے سائنس دانوں ان دنوں دو ماڈلز پر کام کررہے ہیں۔ پہلا کمپیوٹر کا روایتی ماڈل ہے جس میں کمپیوٹر کے تمام حصے روایتی انداز میں کام کرتے ہیں اور دوسرا ماڈل مالیکیول کے اندر وہ قدرتی تبدیلیاں ہیں جس کے تحت الیکٹران حرکت کرتے ہیں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس حرکت کو کمپیوٹنگ کے لیے استعمال کیا جاسکتاہے۔

سائنس دانوں کا کہناہے کہ وہ ایٹم کے اندر اس کی اپنی قوت سے کام کرنے والے الیکٹرانک سرکٹ بنارہے ہیں جن کا حجم ایک نینو میٹر کے 100 ویں حصے سے بھی چھوٹا ہوگا اورجسے صرف ایٹمی خودر بین کے ذریعے ہی دیکھا جاسکے گا۔
جوکم کا کہناہے کہ ان کا کام اگرچہ بنیادی سطح کا ہے لیکن سائنس دانوں کے حلقوں میں اسے بڑے پیمانے پر سراہا جارہاہے۔اپنی ابتدائی کامیابی کے بعد جوکم کی ٹیم مالیکیول کمپیوٹر کے ایک ایسے ڈیزائن پر کام کررہی ہے جس کی قوت مستقبل کی ضروریات کے مطابق ہوگی۔



اقتباس از اردو وی او اے

Posted byعین لام میم at 1/12/2009 02:16:00 AM 3 comments Links to this post  

نیٹ پارے

ناراض وقت کو منانے کے لیے، بور لمحے خوش گوار بنانے کے لیے
ادھر ادھر سے، انٹرنیٹ بھر سے رنگارنگ،چٹخارےدار اور کارآمدویب سائٹس

یہ نیٹ پارے اردو وی او اے (urdu voa)
کی ویب سائٹ پردیے گئے ہیں۔ آپ کی خدمت میں صفحے کا ربط حاضر ہے۔

http://www.voanews.com/urdu/net-paare.cfm

Posted byعین لام میم at 1/09/2009 12:49:00 PM 4 comments Links to this post