الیکٹراانک میڈیا نو جوانوں میں ڈپریشن کا باعث، نئی تحقیق
Tuesday, February 03, 2009
ایک نئے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ تیرہ سے انیس سال تک کی عمر کے جو نوجوان جتنا زیادہ دیر تک ٹیلی ویژن اور دوسرے الیکٹرانک میڈیا کے سامنے اپنا وقت گزارتے ہیں ان میں ڈپریشن کے مرض میں مبتلا ہونے کا امکان اتنا ہی زیادہ بڑھ جاتا ہے۔اس جائز ے کے نتائج آرکائیوز آف جنرل سائیکیٹری میں شائع ہوئے۔
اس ریسرچ کے محقیقین نے وضاحت کی کہ ڈپریشن دنیا بھر اس معذوری کی ایک بڑی وجہ بن گئی ہے جو جان لیوا نہیں ہوتی ۔ریسرچ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانی میں ڈپریشن کے پیدا ہونے کی وجہ وہ یعنی وہ جسمانی ، نفسیاتی ،سماجی اور وہ ہمہ جہت عمل ہو سکتا ہے جس پر انسان کے مزاج ، جینیاتی ورثے ، والدین کی پرورش کا انداز ، فکری کمزوریاں ، پریشان کن واقعات مثلاً سانحے یا غربت اور باہمی تعلقات کا اثر ہو تا ہے ۔ محقیقین کاکہنا ہے کہ اس حقیقت کے پیش نظر کہ نوجوانوں کے روزانہ اوسطاً 8 اعشاریہ 5 گھنٹے الیکٹرانک میڈیا کے سامنے گزرتے ہیں تومیڈیا بھی ان میں ڈپریشن کی ایک وجہ ہو سکتا ہے ۔
یونیورسٹی آف پٹس برگ کے اسکول آف میڈیسن کے ڈاکٹر برائن اے پریمیک اور ٹیم نے اس بات کا جائزہ لینے کے لیے کہ الیکٹرانک میڈیا نوجوانوں میں کس حد تک ڈپریشن پیدا کرسکتا ہے، نیشنل لانگی چیوڈنل سروے آف ایڈولسنٹ ہیلتھ کی جانب سے اکٹھے کیے گئے مواد کا جائزہ لیا۔ اس جائزے میں شامل 4142 نوجوانوں کے بارے میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ کتنا وقت الیکٹرانک میڈیا کے سامنے گذارتے ہیں۔
محققین کو معلوم ہوا کہ 1995 میں جب یہ مطالعاتی جائزہ شروع کیا گیا تو ان میں سے کوئی بھی نوجوان ڈیپریشن کا شکار نہیں تھا۔ابتدائی سروے میں نوجوانوں سے پوچھا گیا تھا کہ وہ کتناوقت ٹیلی وژن ، ویڈیو ز، کمپیوٹر پر گیمز کھیلنے یا ریڈیو سننے پر صرف کرتے ہیں۔ یہ سروے اس وقت کیا گیا تھا جب ڈی وی ڈیز اور انٹرنیٹ کا استعمال عام نہیں ہواتھا۔اس جائزے سے پتہ چلا تھا کہ وہ نوجوان روزانہ اوسطاً 5.68 گھنٹےالیکٹرانک میڈیا کے سامنے گذارتے تھے۔ جن میں سے وہ 2.3 گھنٹے ٹیلی وژن، 0.62 گھنٹے ویڈیو کیسٹ، 0.41 گھنٹے کمپیوٹر گیمز اور 2.34 گھنٹے ریڈیو سننے پر صرف کرتے تھے۔
جائزے میں شامل ان افراد پر سات سال کے بعد دوبارہ سروے کیا گیا جب ان کی اوسط عمر 21.8 سال ہوچکی تھی۔ ان میں سے 308 نوجوانوں یعنی 7.4 فی صد میں ایسی علامات پیدا ہوچکی تھیں جو ڈپیریشن کے مرض جیسی ہوتی ہیں۔
جائزے کے مصنفین کا کہنا ہے کہ ٹیلی وژن کے سامنے ہر روز گذارے گئے ہر اضافی گھنٹے کے نتیجے میں نوجوانوں میں ڈپپریشن کی علامات کے تناسب میں اضافہ ہوتا گیا۔جائزے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نوجوان لڑکیوں کی نسبت جنہوں نے اتنا ہی وقت الیکٹرانک میڈیا کے سامنے گذارا تھا، نوجوان لڑکوں کی ڈپیریشن پیدا ہونے کے امکانات زیادہ پائے گئے۔
مصنفین کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں ڈیپریشن پیدا ہونے کے اور بھی اسباب ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نوجوان الیکٹرانک میڈیا پر صرف کیے جانے والے وقت کو دوسری سماجی ، تخلیقی یا کھیلوں کی سرگرمیوں پر صرف کریں تو ان میں ڈیپریشن پیدا ہونے کے امکانات میں کمی ہوسکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رات کے وقت میڈیا کے سامنے وقت گذارنے سے نیند میں خلل پڑ سکتا ہے جو معمول کی فکری اور جذباتی نشوونما کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ میڈیا کے ذریعے منتقل ہونے والے پیغامات جارحیت یا دوسرے پر خطر طرز عمل پر ابھاریں جس سے ان کی انفرادی شخصت کی نشو و نما متاثر ہوسکتی ہے یا ان میں خوف اور بے چینی پیدا ہوسکتی ہے۔
جائزے کے مصنفین کا کہناہے کہ نوجوانوں کا علاج کرنے والے ماہرین نفسیات ، ڈاکٹروں اور صحت کی دیکھ بھال کے اداروں کے لیے یہ چیز فائدہ مند ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے نوجوان مریضوں سے یہ دریافت کریں کہ وہ اپنا کتنا وقت ٹیلی وژن اور دوسرے الیکٹرانک میڈیا کے سامنے گذارتے ہیں۔ اگر انہیں یہ پتہ چلے کہ ان کا مریض کے وقت کا ایک بڑا حصہ الیکٹرانک میڈیا کے سامنے گذرتا ہے تو ان کی نفسیاتی اور سماجی زنذگی کا تفصیلی جائزہ لیا جانا چاہیے۔اور اس کےسا تھ ساتھ انہیں یہ مشورہ بھی دیا جانا چاہیئے کہ وہ دوسری سماجی اور تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لیں تاکہ ان میں ڈیپریشن پیدا ہونے کے امکانات گھٹ جائیں۔
Posted byعین لام میم at 2/03/2009 09:56:00 PM
ان سب اعداد و شمار کا ذریعہ آ نے نہیں بتایا؟
میں نے یہ مضمون اردو وی او اے کی ویب سائٹ سے حاصل کیا ہے۔ ۔ ۔
www.urduvoa.com